لاہور بورڈ میٹرک کے رزلٹ کی تقریب


لاہور بورڈ کے نتائج کی تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف تھے۔الحمرا ہال میں انہوں نے نمایا ں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبا وطالبات میں تمغے اور انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے سینئر مشیر سردار ذوالفقار علی کھوسہ ٖ صوبائی وزیر جیل خانہ جات چوہدری عبدالغفور ٖ ممبر قومی اسمبلی بلال یٰسین ٖ پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد ارشد ٖ ڈاکٹر اسد اشرف ایم پی اے ٖ چیئرمین تعلیمی بورڈ لاہور ڈاکٹر محمد اکرم کشمیری ٖ کنٹرولر امتحانات پروفیسر ڈاکٹر منظور الحسن نیازی ٖ ممتاز کالم نگار عطائ الحق قاسمی،طلبہ و طالبات کے والدین، اساتذہ ا اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی بھی قوم تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی اور جب تک تعلیم کے یکساں مواقع فراہم نہیں کئے جاتے اس وقت تک ترقی کا تصور بھی محال ہے نیز ہونہار طلبہ اور محنتی اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں ان کی توقعات سے بڑھ کر سہولیات، مراعات فراہم کریں گے اور تعلیم عام کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے سمیت شاہ خرچیاں کم کرکے تعلیم و تدریس کے شعبہ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ انہوں نے نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار تعلیم کےلئے سب سے زیادہ فنڈز مختص کئے ہیں اور پہلی بار پنجاب انڈومنٹ فنڈز کا بھی اجرائ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بوٹی مافیا وغیر معیاری تعلیم نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اس لئے انہوں نے عہد کیا ہے کہ جب تک بوٹی مافیا کا خاتمہ نہیں ہو جائے گا اس وقت تک حکومت اور وہ خود چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے نہ صرف طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی، ان میں محنت کی عادت اور تعلیم کو اوڑھنا بچھونا بنانے کےلئے مختلف مراعات کی فراہمی شروع کی ہے بلکہ وہ اساتذہ کے لئے بھی خصوصی اقدامات کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب نے ہر سال شاندار کارکردگی اور بہترین نتائج دکھانے والے ایک ہزار اساتذہ کے لئے 50 ہزار روپے اور پانچ پانچ مرلے کا ایک ایک پلاٹ فی کس دینے کا اعلان کیا ہے اساتذہ کو اس سے بھی زیادہ مراعات فراہم کرنے کو تیار ہیں۔میرے لئے یہ بھی فخر کی بات ہے کہ پنجاب میں 70 فیصد طلبہ و طالبات سرکاری تعلیمی اداروں میں اور 30 فیصد طلبہ و طالبات پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اگر ہم سرکاری تعلیمی اداروں میں معیار تعلیم کو بہتر بنائیں گے اور اساتذہ پوری یکسوئی کے ساتھ طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں گے تو کوئی بات نہیں کہ 70 فیصد کی شرح کو 100 فیصد پر نہ لایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں وہی طرز تعلیم دیکھنا چاہتے ہیں جو ایچی سن یا جرمنی اور برطانیہ و دیگر غیر ملکی تعلیمی اداروں سے مطابقت رکھتا ہو۔ شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے اس سال پنجاب کے مختلف تعلیمی بورڈز میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں شاندار کارکردگی اور نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے 20 طلبہ و طالبات کو جن میں سے 8 طلبہ کا تعلق جنوبی پنجاب سے اور باقی 12 طلبہ کا تعلق باقی پنجاب سے ہے، کو سرکاری خرچ پر غیر ملکی دورے پر بھجوایا تاکہ ان میں پہلے سے زیادہ خود اعتمادی پیدا ہوسکے اور وہ غیر ملکی تعلیمی اداروں میں دی جانے والی تعلیم کے معیار و انداز سے آگاہی حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ تعداد 20 سے بڑھا کر 50کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اپنا پیٹ کاٹنا پڑا تو ہم تعلیم کو عام کرنے اور ذہین طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلئے اس سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے شعبہ تعلیم سے سفارش کا سلسلہ ختم کرکے پہلی بار 34 ہزار ایجوکیٹرز کی میرٹ پر تعیناتی کو یقینی بنایا ہے اس لئے اگر کوئی شخص ایک بھی ایجوکیٹر کی سیاسی بنیادوں پر بھرتی ثابت کردے تو عوام کا ہاتھ اور ان کا گریبان ہوگا۔ شہباز شریف نے کہا کہ اگر ہم آج پسینہ بہائیں گے تو کل ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہوگا۔ ہم اپنی نوجوان نسل اور پاکستان کے مستقبل کو اندھیروں کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جن اداروں کے تعلیمی نتائج تسلی بخش نہیں ان اداروں کے سربراہان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ تعلیم کے ذریعے انقلاب لانا چاہتے ہیں لیکن ایسا اساتذہ کی قیادت کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر ہم نے آنے والی نسلوں کے مستقبل کو روشن، پاکستان کو محفوظ بنانا ہے تو اس کےلئے اساتذہ کو اپنا حق ادا کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو ہم اپنی قوم پر ظلم کریں گے جس کے لئے ہمیں ہر جگہ جواب دہ ہونا پڑے گا۔ ہم اپنے بچوں کو اس قابل بنائیں گے کہ انہیں آکسفورڈ جیسے ادارے بھی خوشی خوشی داخلہ دینے میں فخر محسوس کریں گے۔ تعلیمی ماہرین سے کہا ہے کہ وہ یکساں نظام تعلیم رائج کرنے اور نصاب تعلیم کو جدید رجحانات اور دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کےلئے اپنی سفارشات پیش کریں تاکہ ان کی روشنی میں مزید اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔