ایك معلم اور ممتحن كی حیثیت سے میں نے یہ بات محسوس كی ہے كہ بسا اوقات طلبا و طالبات نفس مضمون سے پوری طرح واقف ہونے كے باوجود پرچہ امتحان كے اندر سوالات كا واضح اور درست جواب دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس كی ایك بڑی وجہ تو یہ ہے كہ تحریری كام كرنے كی مشق نہ ہونے كے باعث وہ واضح طور پر اپنی معلومات كو پیش نہیں كر سكتے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے كہ وہ سوال كا صحیح جواب دینے كی تكنیك سے واقف نہیں ہوتے۔ ذیل میں دئیے گئے اشارات اور ہدایات كا مقصد طلبا و طالبات كو سوال حل كرنے كی تكنیك سے متعارف كرانا ہے۔
عام طور پر دیكھا گیا ہے كہ طلبائ و طالبات بعض طویل سوالات كے جواب دینے میں اس طرح الجھ جاتے ہیں كہ دوسرے سوالات كا بیشتر وقت بھی كسی ایك یا چند سوالات پر صرف كر دیتے ہیں جس سے پرچہ متوازن نہیں رہتا۔ اس طرح اختصار كی تكنیك سے عدم واقفیت كے باعث ایك اچھا بھلا طالب علم بھی اچھے نمبر حاصل كرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ میں نے اس قسم كے الجھے ہوئے سوالات كو حل كرنے كے لئے وضاحت سے ہدایات دینے كی كوشش كی ہے طلبائ كو چاہئے كہ طویل سوال كو صرف اسی صورت منتخب كریں جب وہ اس كے ہر پہلو كو اختصار سے پیش كرنے كی مہارت ركھتے ہوں۔ بصورت دیگر انہیں كوئی دوسرا سوال تلاش كرنا چاہئے۔ اگر سوال كا كوئی ایك پہلو بھی نظر انداز ہو گیا جب كہ باقی پہلووٕں پر خواہ كتنے ہی صفحات لكھ دئیے گئے ہوں تو مجموعی طور پر طالب علم كو خسارہ رہے گا۔
دوسری طرف یہ بھی عام مشاہدہ كی بات ہے كہ ایك طالب علم ایسا سوال حل كرنا شروع كر دیتا ہے جو بالكل ذیلی نوعیت كا ہوتا ہے اور اس پر متعلقہ عنوان كے تحت كتابوں میں بالكل محدود مواد یا معلومات ملتی ہیں۔ نتیجتہً طالب علم چند پیرے لكھ كر مطمئن ہو جاتا ہے جب كہ ممتحن اسے كم نمبر دیتا ہے اس قسم كے سوالات كو تفصیل سے بیان كرنے كے لئے میں نے واضح ہدایات دی ہیں كہ كون سی دوسری عبارتوں كو كس طریق كار اور اسلوب سے شامل كرنا چاہئے۔
دراصل طلبائ و طالبات كو یہ بات ازبر كرانے كی ضرورت ہے كہ خالص امتحانی نقطہ نظر سے ایك عبارت كے اندر اہم الفاظ اور فقرات كون سے ہیں بعض اوقات ایك پورے پیرے كے اندر ایك یا دو سطریں اتنی جامع اور اہم ہوتی ہیں كہ اگر طالب علم انہیں ازبر كرے تو باقی تفصیلات وہ خود بیان كر سكتا ہے۔
كمرہ امتحان میں سوالات حل كرتے وقت طلبائ و طالبات كو یہ بات ہمیشہ مدنظر ركھنی چاہئے كہ بیشتر سوالات مختلف حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں خواہ امتحانی پرچہ میں ان كے نمبر الگ الگ نہ دكھائے گئے ہوں۔ ایك ممتحن سوالات دیكھتے وقت ہمیشہ ہر حصہ كو الگ طور پر جانچتا ہے۔ یہ بات عموماً دیكھنے میں آئی ہے كہ طلبائ كسی ایك سوال كے ایك حصہ پر تو كافی مواد پیش كر دیتے ہیں جب كہ دوسرے حصہ كو یا تو نظر انداز كر جاتے ہیں یا پھر كم لكھتے ہیں۔ اس طرح سوال كا جواب غیر متوازن ہونے كے باعث وہ خسارے میں رہتے ہیں۔
ذیل میں ہر باب سے متعلقہ اہم سوالات كی نوعیت اور انہیں حل كرنے كے سلسلہ میں عمومی اشارات دئیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں صرف مبہم، غیر اہم اور پیچیدہ سوالات كے جوابات كی تیاری كے لئے رہنمائی فراہم كی گئی ہے جب كہ بالكل آسان اور عام فہم سوالات كو نظر انداز كیا گیا ہے۔