معروضی سوالات اور جوابات


معروضی سوالات كی نوعیت

كسی معاشرتی علم كے سوالنامہ میں ایك لازمی معروضی سوال دینا تو مناسب ہے لیكن اس سے زائد معروضی سوالات دینا كسی مثبت تبدیلی كا پیش خیمہ قرار نہیں دیا جا سكتا۔ اس قسم كے طریق كار سے طلبائ و طالبات كے اندر بغیر سوجھ بوجھ سبق رٹ لینے كی عادت بڑھ جانے كا احتمال ہے۔ نیز كلاس روم كلچر اور تدریس كی كوالٹی پر بھی مضر اثرات مرتب ہونے كا اندیشہ ہے جبكہ طلبائ كی استعداد كار اور نفس مضمون كے حوالہ سے فہم و فراست اجاگر ہونے میں بھی كمی واقع ہونے كا احتمال ہے۔ تاہم اساتذہ كرام اگر پوری دلجمعی كے ساتھ تدریس كے ذریعہ طلبائ كے اندر نفس مضمون كی وضاحت آسان زبان اور دلچسپ پیرایہ میں كریں تو كوئی وجہ نہیں كہ مباحث میں وسعت، علمیت اور دلچسپی قائم نہ رہ سكے یہ اس لئے ضروری ہے تاكہ ان كے اندر بغیر سوچے سمجھے سبق رٹ لینے كا رحجان غالب نہ ہو۔

چند معروضات اپنے تجربات، مشاہدات اور پچھلے چند سالوں میں مختلف سوالناموں كو دیكھنے كی بنا پر گوش گزار كرنا چاہتا ہوں۔ ایسے متعدد سوالات میری نظر سے گزرے جن كے جوابات واضح طور پر پرچہ مرتب كرنے والے حضرات شاید خود بھی دو ٹوك اور قطعی طور پر نہ دے سكیں جبكہ اس ضمن میں بعض جوابات متنازعہ بھی ہو سكتے تھے۔

معروضی سوالات كو بجھارت كی شكل نہیں دینی چاہئے۔ حال ہی میں میری نظر سے تكمیلی نوعیت كے ایسے سوالات گزرے جن میں سے ہر ایك دو مختلف كالموں میں ایك ایك یا دو دو الفاظ كی صورت میں دئیے گئے تھے۔ انہیں مربوط كر كے تیسرے كالم میں مكمل كرنے كو كہا گیا تھا۔ ایك ہی كالم میں ایسے الفاظ میں نے دیكھے جو دوسرے كالم كے ایك سے زائد الفاظ سے مربوط كئے جا سكتے تھے۔ خدا جانے سوالنامہ مرتب كرنے والے اس قسم كی بجھارت كا كیا جواب چاہتے تھے؟ در حقیقت تكمیلی نوعیت كے سوالات باقاعدہ بیانات كو توڑ كر دو الگ الگ كالموں میں تقسیم كر دئیے جاتے ہیں تاكہ تیسرے كالم میں مكمل اور پر معنی بیان مرتب ہو سكے ﴿ملاحظہ ہو ماڈل یا شكل نمبر5﴾

مختصر جوابات كے متقاضی سوالات (Short Answer Type)مرتب كرتے وقت یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے كہ اس قسم كے سوالات بڑے حساس نوعیت كے مضمرات كے حامل ہو سكتے ہیں۔ لہٰذا یہ ایسے ہونے چاہئیں جن كے جوابات قطعی طور پر دو ٹوك الفاظ میں دئیے جا سكیں۔ اگر ایسے سوالات مرتب كر دئیے جائے جو تبصرہ كرنے یا بحث و تمحیص كے متقاضی ہو جائیں تو انہیں جانچنے (Evaluation)میں دقت ہو گی اور دوسری طرف بالكل درست نمبروں كا تعین نہ ہو سكے گا۔ واضح رہے كہ معروضی نوعیت كے سوالات كو جانچتے وقت بالعموم پورے متعینہ نمبر یا تو دے دئیے جاتے ہیں یا بالكل نہیں دئیے جاتے، لیكن متنازعہ نوعیت كے سوالات اور مباحث كے متقاضی سوالات كے جوابات جانچنے كا معیار متعین كرنا مشكل كام ہے۔ مثلاً اس قسم كا سوال دے دیا جائے كہ وفاقی یا پارلیمانی نظام سے كیا مراد ہے؟ یا یہ سوال كہ اردو ہندی تنازعہ كا مختصر جواب دیں تو معاملہ متذكرہ پیچیدہ صورت اختیار كر سكتا ہے، كیونكہ طلبائ كی طرف سے كوائف الگ الگ ہوں گے۔ المختصر اس قسم كے مختصر جوابات والے سوالات خاص طور پر قطعی نوعیت كے ہونے چاہئیں۔ مثلاً:

الف۔ قائد اعظم كے چودہ نكات میں سے كوئی سے پانچ نكات دیجئے۔

ب۔ سرسید نے مسلمانوں كو عملی سیاست سے كنارہ كش رہنے كی تلقین كیوں كی؟

ج۔ آئین پاكستان كے حوالہ سے كوئی سی تین اسلامی دفعات لكھئے۔

مناسب ہو گا كہ Short Answer Typeكے حوالہ سے نكات دینے والے سوالات یعنی (Points Prescription Type) سوالات دئیے جائیں تاكہ جواب میں صراحت ہو سكے۔ پرچہ مرتب كرنے والے اساتذہ كرام سے گزارش ہے كہ پرچہ مرتب كرتے وقت خاص طور پر زیادہ حقیقت شناسی سے كام لیں۔ ہمیشہ طلبائ كی عمومی ذہنی سطح كو ملحوظ خاطر ركھیں۔ مثلاً تحریك آزادی سے متعلقہ سوالات میں بالكل ذیلی نوعیت كے واقعات اور ان سے متعلقہ باریك بینیوں سے پہلو تہی كریں۔

میں نے ہر باب سے متعلقہ مختلف نوعیت كے معروضی سوالات مختلف اقسام كے حوالہ سے الگ الگ صورت میں بطور مثال دے دئیے ہیں۔ تاہم طوالت سے بچنے كی خاطر مختلف ابواب كے حوالہ سے مختلف قسم كی اقسام (Types) كا استعمال كیا گیا ہے۔ یعنی تمام اقسام یا اشكال كا استعمال ضروری نہیں سمجھا گیا۔ جوابات بعض صورتوں میں ساتھ ہی دئیے ہیں جبكہ نہیں بھی دئیے تاكہ طلبا و طالبات كی ذہنی مشق بھی ہو سكے اور وہ محض رٹا لگانے پر ہی تكیہ نہ كئے رہیں۔ مكمل اور جامع شكل میں لاتعداد معروضی سوالات مرتب شدہ شكل میں دے دینا میرا مقصد قطعاً نہیں ایسا انداز اختیار كرنا گیٹ تھرو گائیڈز وغیرہ كا تو ہو سكتا ہے، معیاری نصابی كتب كے مصنفین بالعموم اس سے پہلو تہی كرتے ہیں۔ مزید براں ایسا طریق كار طلبائ كے اندر تخلیقی صلاحیتیں اجاگر كرنے میں مانع ہوتا ہے اور یہ وسیع تر علمی مقاصد سے بھی متصادم ہے۔

ذیل میں معروضی سوالات كی مختلف النوع ماڈل اشكال (Types) دے دی گئی ہیں اور مثالوں سے ہر شكل كو واضح بھی كر دیا گیا ہے۔ ان كے لئے انگریزی میں معروف اصطلاحات بھی محض اس لئے دی ہیں كیونكہ یہ مروجہ تعلیمی ڈھانچہ میں مستعمل ہیں۔ اردو زبان میں ان كے اصطلاحی متبادل اجاگر كرنے كی بجائے طلبا و طالبات كی سہولت كے لئے ان كے مفاہیم كی نشاندہی كر دی گئی ہے۔

میں نے مختلف معروضی سوالات كی مختلف اشكال كا ہر باب سے متعلق جو خاكہ دیا ہے مجھے امید ہے یہ قارئین كے لئے نہایت سود مند ثابت ہو گا۔ در حقیقت ایك ہی نوعیت كا بیان مختلف اشكال كی صورت میں دیا جا سكتا ہے۔ میرا یہ كام امید ہے پرچہ مرتب كرنے والے حضرات كے لئے رہنمائی كا كام دے سكے گا۔ واضح رہے كہ سوالنامہ مرتب كرنے كا فریضہ نہ صرف یونیورسٹی كے امتحانات كے حوالہ سے بلكہ كلاس ٹیسٹ كی صورت میں كم و بیش ہر استاد كو ادا كرنا ہوتا ہے۔ سوالنامہ مرتب كرنے كے لئے كسی مخصوص كتاب كے مواد كو مدنظر ركھنا ضروری نہیں۔ یہ اساتذہ كرام كی اپنی صوابدید ہے۔ بلاشبہ وہ اعلیٰ معیار كو ہی مدنظر ركھتے ہیں۔